فارسی اور اردو: زبانوں کا تاریخی، لسانی اور ادبی رشتہ
ہند-ایرانی مشترکہ اساس سے برصغیر کی تہذیبی و شعری تشکیل تک کا فکری سفر
فارسی اور اردو کا تعلق محض دو ہمسایہ زبانوں کے تعامل تک محدود نہیں بلکہ یہ مشترکہ ہند-ایرانی لسانی جڑوں اور تقریباً آٹھ صدیوں پر محیط گہرے تہذیبی، سیاسی اور ادبی اشتراک کا مظہر ہے۔ اس تفصیلی مقالے میں دونوں زبانوں کے ارتقائی مراحل، لغوی و صرفی اشتراک، نستعلیق رسم الخط اور ادبی روایت پر فارسی کے اثرات کا علمی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
Key takeaways
- فارسی اور اردو دونوں ہند-یورپی لسانی خاندان کی ذیلی شاخ 'ہند-ایرانی' (Indo-Iranian) سے تعلق رکھتی ہیں، جس کی بنا پر ان کے بنیادی صرفی و نحوی ڈھانچے میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔
- غزنوی اور دہلی سلطنت کے ادوار (گیارہویں تا سولہویں صدی عیسوی) میں برصغیر میں فارسی بطور دفتری اور علمی زبان رائج ہوئی، جس کے مقامی زبانوں پر اثرات نے اردو کے ارتقا کی بنیاد رکھی۔
- اردو زبان کے علمی، فلسفیانہ اور شعری ذخیرہ الفاظ میں 50 سے 60 فیصد حصہ براہِ راست فارسی یا فارسی زدہ عربی الفاظ پر مشتمل ہے۔
- مغلیہ دربار نے فارسی کو سرکاری سرپرستی دی، لیکن اٹھارہویں صدی تک عوامی رابطے اور شاعری کے لیے 'ریختہ' یعنی ابتدائی اردو نے دربار اور بازار دونوں میں اپنی خود مختار شناخت قائم کرلی۔
- برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے 1837ء کے ایکٹ کے تحت عدالتی اور دفتری سطح پر فارسی کی جگہ مقامی زبانوں بالخصوص اردو اور انگریزی کو دی گئی، جس نے جدید اردو کی راہ ہموار کی۔

farsi اور اردو کا تاریخی رشتہ محض دو زبانوں کے بیرونی ادغام کا قصہ نہیں ہے، بلکہ یہ ہند-ایرانی تہذیب کی صدیوں پر محیط وہ فکری اور لسانی ہم آمیزی ہے جس نے برصغیر کی علمی، ادبی اور اجتماعی شناخت کو تشکیل دیا۔ علمِ لسانیات کی رو سے اردو اور فارسی ایک ہی شجرہ نسب کی دو ایسی شاخیں ہیں جو قبل از تاریخ کے دور میں جدا ہوئیں اور پھر قرونِ وسطیٰ میں تاریخ کے ایک منفرد موڑ پر دوبارہ ایک دوسرے سے بغلگیر ہو گئیں۔ اس تاریخی سنگم نے ایک ایسی نئی لسانی کائنات کو جنم دیا جس کا خمیر ہندی وراثت اور ایرانی جمالیات کے باہمی اختلاط سے تیار ہوا تھا، اور جسے آگے چل کر اردو کے نام سے جانا گیا۔
ہندوی، ریختہ، دہلوی اور بالآخر اردو کے ارتقائی سفر پر فارسی کا اثر اتنا ہمہ گیر ہے کہ اردو کو برصغیر کے مخصوص سماجی، سیاسی اور صوفیانہ سیاق و سباق میں 'فارسی کی بیٹی' یا 'عالمِ عجم کی سب سے زرخیز وارث زبان' قرار دیا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ لفظیات کے ذخیرے سے لے کر صرف و نحو کے مخصوص اسالیب، شعری اصناف کے اوزان اور کتابت کے شاندار نستعلیق رسم الخط تک، اردو نے فارسی کے تہذیبی اثاثے کو اپنی ذات میں جذب کر کے اسے ایک نئی آب و تاب بخشی۔
لسانی قرابت: ہند-ایرانی مشترکہ جڑیں اور ارتقا
اردو اور فارسی کی قربت کو سمجھنے کے لیے لازم ہے کہ ہم سب سے پہلے ہند-یورپی زبانوں کے اس مشترکہ ماخذ کی طرف رجوع کریں جسے تقابلی لسانیات میں ہند-ایرانی (Indo-Iranian) شاخ کہا جاتا ہے۔ تقریباً دو ہزار قبلِ مسیح میں جب آریائی قبائل وسطی ایشیا کے مرغزاروں سے نکل کر دو گروہوں میں تقسیم ہوئے، تو ایک شاخ نے سطح مرتفع ایران کا رخ کیا اور دوسری شاخ درہ خیبر کو عبور کرتے ہوئے وادیٔ سندھ اور پنجاب کے میدانوں میں داخل ہوئی۔ اس ابتدائی دور کی دو قدیم ترین زبانیں یعنی اوستائی (قدیم فارسی کی پیش رو) اور ویدک سنسکرت (شمالی ہندوستان کی زبانوں کی پیش رو) باہمی طور پر اتنی قریب تھیں کہ اوستائی متون کو صوتی قواعد کے معمولی رد و بدل کے ساتھ سنسکرت میں پڑھا جا سکتا تھا۔
صدیوں کے طبعی بعد کے باوجود، جب قرونِ وسطیٰ میں جدید فارسی برصغیر میں وارد ہوئی تو اس نے یہاں کی زبانوں میں ایک غریب اور اجنبی زبان کی طرح قدم نہیں رکھا، بلکہ اسے ایک ایسی فضا ملی جس کی اندرونی ساخت اس کی فطرت سے پوری طرح ہم آہنگ تھی۔ دونوں زبانوں کے مشترکہ اسما، بنیادی افعال، ضمائر اور جسمانی اعضا کے نام اس ہزاروں سال پرانی قرابت کی گواہی دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر سنسکرت کا 'ماتر'، اوستائی کا 'ماتَر'، فارسی کا 'مادر' اور اردو کے صوتی سانچے میں ڈھلنے والا تصور ایک ہی ہند-ایرانی ماخذ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہی معاملہ 'برادر'، 'نام'، 'دست' اور 'است' جیسے الفاظ کا بھی ہے۔
| اردو / ہندوی ماخذ | کلاسیکی فارسی | قدیم سنسکرت | مشترکہ مفہوم |
|---|---|---|---|
| ماتا / ماں | مادر (Mādar) | ماتر (Mātṛ) | ماں / والده |
| بھائی / برادر | برادر (Barādar) | بھراتر (Bhrātṛ) | بھائی |
| نام | نام (Nām) | نامن (Nāman) | اسم / شناخت |
| ہاتھ / دست | دست (Dast) | ہست (Hasta) | ہاتھ |
| ستارہ / تارا | ستارہ (Setāreh) | تارا (Tārā) | فلکی جسم / تارا |
| دو | دو (Do) | دواؤ (Dvau) | عدد دو (2) |
برصغیر میں فارسی کا ورود اور دفتری بالادستی
برصغیر پاک و ہند میں فارسی زبان کا باقاعدہ داخلہ گیارہویں صدی عیسوی میں محمود غزنوی کے حملوں اور لاہور کو سلطنت غزنویہ کا ایک اہم ثقافتی مرکز بنائے جانے کے ساتھ ہوا۔ لاہور برصغیر کا پہلا شہر تھا جہاں فارسی زبان و ادب نے جڑیں پکڑیں اور مسعود سعد سلمان جیسے نامور شعرا نے اپنا دیوان ترتیب دیا۔ بارہویں صدی کے اواخر میں غوری فتوحات اور بالآخر دہلی سلطنت (1206ء تا 1526ء) کے قیام نے فارسی کو دہلی کے اقتدار اعلیٰ، دربار، نظامِ عدل اور بین الاقوامی سفارت کاری کی باضابطہ اور ناقابلِ تسخیر زبان بنا دیا۔
اس سیاسی غلبے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ فارسی صرف بیرونی حکمرانوں کی زبان نہیں رہی، بلکہ اس نے مقامی ہندوستانی اشرافیہ، صوفیائے کرام، تاجروں اور ادیبوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا۔ دہلی، آگرہ، بدایوں، ملتان اور لاہور جیسے شہروں میں قائم خانقاہوں اور مدارس نے فارسی کو تعلیم اور اخلاقی تربیت کا بنیادی ذریعہ قرار دیا۔ صوفیا کی ملفوظاتی تحریروں اور امیر خسرو جیسے نابغۂ روزگار اہلِ قلم کی کاوشوں نے فارسی کو برصغیر کے مزاج کا حصہ بنا دیا۔ مغلیہ سلطنت کے دور میں، بالخصوص شہنشاہ اکبر کے زیرِ ہدایت راجہ ٹوڈرمل نے جب تمام مالیاتی اور انتظامی حسابات کو فارسی میں منتقل کرنے کا فرمان جاری کیا، تو ہندو منشیوں، کائستھوں اور کھتریوں نے جوق در جوق فارسی سیکھ کر انتظامی معاملات میں مرکزی کردار ادا کرنا شروع کیا، جس سے یہ زبان ایک وسیع سماجی رابطے کا وسیلہ بن گئی۔

farsi کا لسانی تعامل: ریختہ اور اردو کا خمیر
جب دو مختلف زبانیں بولنے والے گروہ صدیوں تک ایک ہی جغرافیائی اور سیاسی ماحول میں باہم زندگی بسر کرتے ہیں، تو ایک نیا لسانی اختلاط جنم لیتا ہے۔ دہلی کے بازار، افواج کی چھاؤنیاں (اردوئے معلیٰ) اور عام شہریوں کے باہمی لین دین نے کھڑی بولی، برج بھاشا اور دہلوی کے قواعدی ڈھانچے کو فارسی الفاظ کی آمیزش سے لبریز کرنا شروع کیا۔ اس مشترکہ زبان کو ابتدائی دور میں 'ہندوی'، 'دہلوی' اور بعد ازاں 'ریختہ' یعنی گری پڑی یا ملی جلی زبان کہا گیا۔ امیر خسرو نے اس لسانی تجربے کو اپنی بے مثال شاعری میں پیش کر کے امر کر دیا، جس کا سب سے مشہور نمونہ ان کی وہ غزل ہے جس کا ایک مصرع فارسی اور دوسرا مصرع ہندوی میں ہے: 'زحالِ مسکیں مکن تغافل، دورائے نیناں بنائے بتیاں'۔
اردو کی صرفی و نحوی ساخت بنیادی طور پر ہند-آریائی ہی رہی—اس کے افعال، ضمائر اور جملے کی بنیادی بناوٹ (فاعل، مفعول، فعل) مقامی تھی—لیکن فکری، تجریدی، انتظامی اور جمالیاتی اظہار کے لیے اس نے فارسی کے ذخیرے سے لامحدود استفادہ کیا۔ اردو نے فارسی سے نہ صرف مفرد الفاظ قبول کیے بلکہ اس کی لسانی تشکیلات جیسے سابقے (پیشوند: با، بے، نا، بد، کم، ہم) اور لاحقے (پسوند: دار، دان، باز، کار، ناک، مند، گر) کو اس طرح اپنے اندر جذب کیا کہ وہ اردو کے فطری بول چال کا جزو بن گئے۔ آج کا اردو بولنے والا 'بے وقوف'، 'غم ناک'، 'ہوش مند' یا 'دیانت دار' بولتے ہوئے اس بات سے بے خبر ہوتا ہے کہ وہ فارسی کے لسانی اوزار استعمال کر رہا ہے۔
رسم الخط اور صوتیات: نستعلیق کا جمالیاتی تسلط
اردو زبان کے تشخص کی علامت اس کا خوبصورت اور مرغولہ دار 'نستعلیق' رسم الخط ہے، جو خالصتاً ایرانی خطاطی کی شاہکار اختراع ہے۔ چودہویں صدی عیسوی میں ایران کے عظیم خطاط میر علی تبریزی نے خطِ نسخ کی درستی اور خطِ تعلیق کی دلکشی و روانی کو یکجا کر کے 'نستعلیق' کی بنیاد رکھی تھی۔ جب یہ خط سلطنتِ دہلی اور بعد میں مغل دور میں ہندوستان پہنچا، تو برصغیر کے خطاطوں نے اسے اس درجہ اپنایا کہ یہ نہ صرف فارسی کا بلکہ برصغیر کی تمام اسلامی اور ادبی تحریروں کا حتمی پیمانہ قرار پایا۔
اردو نے اپنے صوتی نظام کو مکمل کرنے کے لیے فارسی کے رسم الخط میں کچھ معمولی مگر انقلابی تبدیلیاں کیں۔ چونکہ مقامی ہند-آریائی زبانوں میں معکوسی آوازیں (Retroflex sounds) جیسے ٹ، ڈ، ڑ اور ہکاری آوازیں (Aspirated sounds) جیسے بھ، پھ، تھ، ٹھ کثرت سے موجود تھیں اور عربی یا فارسی ابجد ان کے اظہار سے قاصر تھیں، اس لیے برصغیر کے دانشمندوں نے فارسی حروف پر چھوٹی طوئے (ط) یا نقطوں کا اضافہ کر کے ان نئی آوازوں کی علامات وضع کیں، جبکہ ہکاری آوازوں کے لیے فارسی کی دوچشمی ہ (ھ) کو مخصوص کیا۔ یوں اردو رسم الخط فارسی کے بنیادی حروفِ تہجی کی ایک ایسی ترقی یافتہ اور وسیع تر شاخ بن گیا جس نے مقامی صوتی ضرورتوں کو فارسی خطاطانہ حسن کے ساتھ یکجا کر دیا۔

ادبی روایات کا انتقال: اصناف، بحور اور شعری علامتیں
اردو ادب کی پوری عمارت فارسی کے ادبی اور شعری ماڈل پر تعمیر کی گئی ہے۔ اٹھارہویں صدی میں جب دکن سے ولی دکنی کا اردو دیوان دہلی پہنچا تو دہلی کے فارسی گو شعرا پر سکتہ طاری ہو گیا کہ جس زبان کو وہ بازاری یا کم مایہ تصور کرتے تھے، اس میں فارسی جیسی نازک خیالی، صوفیانہ گہرائی اور شستہ بیانی کا اظہار ممکن ہے۔ ولی کے اس دیوان نے دہلی کے ادبا کو یہ حوصلہ دیا کہ وہ فارسی کے بجائے اپنی مادری اور عوامی زبان اردو میں شاعری کریں، لیکن انہوں نے اصناف، تشبیہات اور فکری اسالیب سب کے سب فارسی سے لیے۔
غزل، جو اردو کا سب سے مقبول شعری پیرایہ بنی، بنیادی طور پر فارسی کی مرہونِ منت ہے۔ فارسی غزل کے موضوعات—عشقِ مجازی، تصوف، جبر و قدر، صیاد اور گلچیں، شمع و پروانہ، پیرِ مغاں اور مے خانہ—براہِ راست اردو شاعری کا سرمایہ بن گئے۔ اردو کے عظیم کلاسیکی شعرا مثلاً میر تقی میر، خواجہ میر درد، سودا، مصحفی، ذوق اور مرزا اسد اللہ خان غالب نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے فارسی ہی کے بحور اور اوزان کو برتا۔ مرزا غالب تو اس حد تک فارسی سے متاثر تھے کہ وہ اپنی اردو شاعری کو 'بے رنگ' قرار دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ اگر ان کے اصل جوہر دیکھنے ہوں تو ان کا فارسی دیوان پڑھا جائے۔
“فارسی بین تا ببینی نقشہائے رنگ رنگ بگذر از مجموعۂ اردو کہ بے رنگِ من است”
علامہ محمد اقبال کے ہاں یہ رشتہ اپنی معراج پر پہنچتا ہے۔ اقبال نے جب یہ محسوس کیا کہ ان کے انقلابی پیامِ خودی اور ملتِ اسلامیہ کی بیداری کے فلسفے کے لیے اردو کا جغرافیہ محدود ہے، تو انہوں نے عالمگیر سطح پر اپنا پیغام پہنچانے کے لیے شعوری طور پر فارسی زبان کا انتخاب کیا۔ ان کی کتب 'اسرارِ خودی'، 'رموزِ بے خودی'، 'پیامِ مشرق'، 'زبورِ عجم' اور 'جاوید نامہ' اس تاریخی حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ برصغیر کے فکری ارتقا میں فارسی اور اردو دراصل ایک ہی روح کے دو جداگانہ قالب تھے۔
سلطنتِ غزنویہ کے دور میں لاہور فارسی زبان، شاعری اور خطاطی کا پہلا عظیم ہندوستانی مرکز بنا۔
صرفی و نحوی اثرات: اضافت اور سابقے لاحقے
اردو کے گرامر میں فارسی کا اثر اس قدر گہرا ہے کہ اگر اسے الگ کر دیا جائے تو اردو کی فصاحت اور ادبی چاشنی کا ایک بڑا حصہ ماند پڑ جائے گا۔ اس سلسلے میں سب سے بنیادی چیز 'ترکیبِ اضافی' ہے۔ ہند-آریائی زبانوں میں تعلق ظاہر کرنے کے لیے 'کا، کے، کی' کے لاحقے استعمال ہوتے ہیں (جیسے 'دل کا درد')، لیکن فارسی کے کسرۂ اضافت (زیرِ اضافت) نے اردو کو یہ کمال دیا کہ وہ ایک طویل جملے کو دو مختصر الفاظ میں سمیٹ سکے، جیسے 'دردِ دل'۔ اسی طرح 'ترکیبِ توصیفی' (جیسے 'مردِ ناداں' یا 'صبحِ صادق') اور 'عطف' کا قاعدہ (جیسے 'شب و روز'، 'رنج و راحت') اردو کی تحریری شان کو غیر معمولی وسعت بخشتے ہیں۔
علاوہ ازیں، روزمرہ گفتگو میں استعمال ہونے والی سیکڑوں اصطلاحات براہِ راست فارسی گرامر کے سانچوں پر بنی ہیں۔ فارسی کے اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول کے اوزان، جیسے 'دانندہ'، 'گویندہ'، 'پروردگار'، اور حاصل مصدر جیسے 'رفتار'، 'گفتار'، 'کردار' اردو کی عمومی لغت میں اس طرح پیوست ہیں کہ کسی غیر لسانیاتی نگاہ کو ان کا بیرونی ہونا محسوس ہی نہیں ہوتا۔ اس گرامری لچک نے اردو کو ہندوستان کی دیگر تمام بولیوں کے مقابلے میں ایک بین الاقوامی فکری اور علمی معیار عطا کیا۔
جامع فیروز اللغات اور اردو لغت بورڈ کے مطابق جدید اردو کے کل فعال ذخیرہ الفاظ میں 55 فیصد سے زائد الفاظ کا ماخذ فارسی یا فارسی آمیز عربی ہے۔
مغل دور اور سلطنتِ اودھ میں فردوسی کے شاہنامے کے اردو منظوم تراجم کیے گئے تاکہ عام ہندوستانی بھی ایرانی اساطیر سے واقف ہو سکیں۔
برصغیر میں فارسی کی دفتری حکمرانی کا دورانیہ (تقریباً 1000ء تا 1837ء) انگریزی کی کل حکمرانی کے دورانیے سے چار گنا زیادہ طویل تھا۔
دنیا میں پاکستان واحد خود مختار ریاست ہے جہاں اردو قومی زبان کے طور پر سرکاری اور طباعتی سطح پر بنیادی طور پر خطِ نستعلیق میں ہی لکھی جاتی ہے۔
معاصر دور میں فارسی اور اردو کا مشترکہ مستقبل
انیہویں صدی کے وسط میں 1837ء کے برطانوی اقدام نے اگرچہ فارسی کو دفتری میدان سے بے دخل کر دیا اور بعد کے سیاسی حالات نے ایران اور برصغیر کے روایتی جغرافیائی رابطوں کو کمزور کیا، لیکن اردو کے باطن میں موجود فارسی روح کو ختم نہ کیا جا سکا۔ پاکستان کے قومی ترانے کا جائزہ لیں تو اس کا ہر لفظ (سوائے لفظ 'کا' کے) خالصتاً فارسی لسانی قواعد اور الفاظ پر مبنی ہے: 'پاک سرزمین شاد باد، کشورِ حسین شاد باد'۔ یہ ترانہ اس بات کا حتمی ثبوت ہے کہ قومی شناخت اور خود مختاری کے جدید تصورات میں بھی برصغیر کی اردو فکر فارسی کی لسانی عظمت کے بغیر گونگی رہتی ہے۔
آج کے دور میں بھی علمی اور تہذیبی سطح پر اردو زبان، فارسی ادب کی تفہیم کے بغیر ادھوری ہے۔ ایران اور پاکستان کے جامعاتی شعبہ جات، قلمی نسخوں کے ذخائر اور مشترکہ صوفیانہ روایات اس بات کی متقاضی ہیں کہ اس دیرینہ رشتے کو محض تاریخ کا حصہ نہ سمجھا جائے، بلکہ نئی نسل کو اس لسانی شجر سے روشناس کرایا جائے جس نے اردو کو دنیا کی شائستہ ترین اور تہذیب یافتہ زبانوں کی صف میں لا کھڑا کیا۔
References
- Encyclopaedia Iranica: India – Persian Literature in South Asia
- British Library: Urdu and Indo-Persian Manuscripts
- Metropolitan Museum of Art: The Art of the Nastaliq Script
- UNESCO Digital Library: The Shared Persianate World and Urdu Literature
- JSTOR: Muzaffar Alam, The Pursuit of Persian: Language in Mughal Politics
- Rekhta Foundation: Historical Evolution of Rekhta and Urdu Poetry
Frequently asked questions
اردو زبان کے ارتقا میں farsi کا کیا بنیادی کردار رہا ہے؟
farsi نے برصغیر میں صدیوں تک درباری، انتظامی اور علمی زبان کا کردار ادا کیا۔ جب مسلم حکمرانوں اور مقامی باشندوں کے مابین رابطہ قائم ہوا تو ہندوی، پراکرت اور کھڑی بولی کے مقامی گرامر کے سانچے میں فارسی اور عربی الفاظ ضم ہوتے گئے۔ اس تعامل نے ایک ایسی زبان کو جنم دیا جس نے بعد میں 'اردو' یا 'ریختہ' کا نام پایا، جس کا رسم الخط، شعری علامات اور فکری نظام مکمل طور پر فارسی روایات سے فیض یاب تھا۔
کیا اردو اور فارسی ایک ہی لسانی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں؟
جی ہاں، لسانیات کے رو سے اردو اور فارسی دونوں زبانیں ہند-یورپی (Indo-European) لسانی خاندان کی شاخ ہند-ایرانی (Indo-Iranian) سے نکلی ہیں۔ قدیم اوستائی زبان اور سنسکرت کا تعلق ایک ہی نسلی اور لسانی ماحول سے تھا، جس کی وجہ سے صدیوں بعد پیدا ہونے والی فارسی اور اردو میں بنیادی صوتیات، گنتی اور کئی ابتدائی افعال میں حیرت انگیز اشتراک نظر آتا ہے۔
اردو شاعری پر فارسی شعری روایت کا کیا اثر پڑا؟
اردو شاعری نے اپنی تمام بنیادی اصناف مثلاً غزل، مثنوی، قصیدہ، رباعی اور قطعہ فارسی ہی سے مستعار لیں۔ نہ صرف اصناف بلکہ بحور، عروض کے اوزان، تشبیہات و استعارات (جیسے گل و بلبل، شمع و پروانہ، صیاد و گلچیں) اور صوفیانہ فکری رجحانات سب کے سب فارسی کلاسیکی شعری روایت کی دین ہیں، جنہیں ولی دکنی، میر تقی میر اور مرزا غالب نے اردو میں پروان چڑھایا۔
اردو میں فارسی مرکبات اور 'اضافت' کا اصول کیسے رائج ہوا؟
اردو نے فارسی سے 'ترکیبِ اضافی' (کسرہ اضافت کے ساتھ) اور 'ترکیبِ توصیفی' کے اصول من و عن قبول کیے۔ مثال کے طور پر 'دردِ دل'، 'شامِ غم' یا 'کوئے یار' جیسے تراکیب خالصتاً فارسی لسانی ساخت کی حامل ہیں، جن کے بغیر کلاسیکی اور جدید اردو نثر و نظم کی ادائے مطالب کا تصور ممکن نہیں۔ یہ اصول اردو کے اسلوب کو غیر معمولی ایجاز اور وسعت عطا کرتے ہیں۔
برصغیر میں دفتری زبان کے طور پر فارسی کا خاتمہ کب اور کیسے ہوا؟
برصغیر میں فارسی تقریباً آٹھ سو سال تک سرکاری اور عدالتی زبان رہی۔ برطانوی راج کے دوران ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1837ء میں ایکٹ 29 پاس کر کے فارسی کو سرکاری و عدالتی حیثیت سے معزول کر دیا اور اس کی جگہ صوبائی سطح پر دیسی زبانوں یعنی بالائی ہندوستان میں اردو اور بنگال میں بنگالی کو رائج کیا۔ اس اقدام نے اردو کو فارسی کی جانشین کے طور پر ابھارا۔