Skip to main content

یزد: خشت و گل کا صحرائی شہر اور اس کا آبی ورثہ

دشتِ کویر کے کنارے پر واقع دنیا کے سب سے بڑے مٹی کے تاریخی شہر اور قدیم ایرانی انجینئرنگ کا شاہکار

یزد ایران کی خشک ترین صحرائی پٹی میں واقع ایک ایسا تاریخی شہر ہے جس نے صدیوں تک شدید ماحولیاتی دباؤ کا مقابلہ محض کچی اینٹوں (خشت)، بادگیروں اور زیرِ زمین کاریز (قنات) کے سائنسی نظام سے کیا۔ یہ مقالہ یزد کے ماحولیاتی فنِ تعمیر، آبی نظامِ آب انبار، زرتشتی اور اسلامی تمدن، اور جدید دور میں اس کی ماحولیاتی پائیداری کا جامع اور علمی جائزہ پیش کرتا ہے۔

Key takeaways

  • یزد کا تاریخی مرکز دنیا کے قدیم ترین اور وسیع ترین مٹی کے گارے (خشت و گل) سے تعمیر شدہ مسلسل آباد شہری مراکز میں سے ایک ہے، جسے 2017ء میں یونیسکو نے عالمی ورثہ قرار دیا۔
  • شہر کے نیچے واقع 'قنات زارچ' دنیا کی طویل ترین فعال کاریز سمجھی جاتی ہے، جس کی لمبائی تقریباً 80 کلومیٹر سے زائد اور اس کے کنوؤں کی تعداد دو ہزار سے زیادہ ہے۔
  • روایتی بادگیر (Windcatchers) اور زیرِ زمین سرداب اور آب انبار مل کر بغیر کسی برقی توانائی کے درجہ حرارت میں 10 سے 15 ڈگری سینٹی گریڈ تک کمی لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
  • یزد ایران میں زرتشتی مذہب اور ثقافت کا سب سے مضبوط گڑھ رہا ہے جہاں آتش بہرام کی مقدس آگ گزشتہ 1500 برسوں سے مسلسل روشن ہے۔
  • یزد کی گلیوں کے اوپر تعمیر شدہ محرابی چھتیں (ساباط) نہ صرف راہگیروں کو تیز دھوپ سے بچاتی ہیں بلکہ مکانات کی دیواروں کو زلزلے کے جھٹکوں کے خلاف باہمی ساختی استحکام بھی فراہم کرتی ہیں۔

یزد ایران کے وسطی سطح مرتفع میں دشتِ کویر اور دشتِ لوط کے خشک ترین صحراؤں کے سنگم پر واقع ایک تاریخ ساز صحرائی شہر ہے، جسے مٹی اور گارے سے تعمیر شدہ پائیدار فنِ تعمیر اور زیرِ زمین کاریزوں (قنات) کے بے مثل نیٹ ورک کی بدولت عالمی سطح پر غیر معمولی شہرت حاصل ہے۔ یہ بستی شدید موسمی تغیرات، پانی کی قلت اور سخت قحط سالی کے ماحول میں روایتی انجینئرنگ اور قدرتی توانائی کے غیر فعال استعمال (Passive Energy) کا دنیا کا سب سے مستند اور وسیع تاریخی ثبوت ہے۔ صدیوں سے یزد نے خام مٹی کی اینٹوں (خشت)، ہوا کھینچنے والے میناروں (بادگیر) اور پانی کے زیرِ زمین مخزنوں (آب انبار) کے ذریعے صحرائی ماحولیات کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کا ایک ایسا تمدن پروان چڑھایا جو آج بھی ماہرینِ تعمیرات اور ماحولیات کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

جغرافیائی تناظر اور تاریخی بقا کی جدوجہد

یزد کا محلِ وقوع جغرافیائی اعتبار سے نہایت ناہموار اور چیلنجنگ ہے۔ سالانہ اوسط بارش محض 50 سے 60 ملی میٹر ہونے کے سبب یہاں کی سطح زمین پر کوئی مستقل دریا یا قدرتی جھیل موجود نہیں ہے۔ اس شدید بنجر پن کے باوجود، شاہراہِ ریشم پر واقع ہونے کے باعث یزد نے ایک مرکزی تجارتی اور ثقافتی گزرگاہ کا کردار ادا کیا۔ ساسانی عہد میں یزگرد اول کے نام سے منسوب اس بستی نے اسلامی دور میں نہ صرف اپنی ثقافتی انفرادیت کو قائم رکھا بلکہ صحرائی فنِ تعمیر اور شہری منصوبہ بندی میں ایسی اختراعات کیں جن کی مثال پوری دنیا میں نایاب ہے۔

شہر کے معماروں نے سخت زمینی حالات کو شکست دینے کے لیے مقامی خام مال یعنی مٹی، ریت، نمک اور بھوسے کو اپنا بنیادی اوزار بنایا۔ خشت اور گارے کے مرکب نے ایک ایسا تھرمل ماس (Thermal Mass) فراہم کیا جو دن کی شدید تپش کو جذب کر کے رات کے وقت آہستہ آہستہ خارج کرتا ہے، جس سے صحرا کی سرد راتوں اور شدید گرم دنوں کے مابین درجہ حرارت کا توازن خود بخود قائم رہتا ہے۔

قنات اور کاریز: صحرا کے نیچے بہتی حیات کی لہریں

یزد کی تمام تر تمدنی شان اور زرعی حیات کا انحصار قنات یعنی کاریز کے نظام پر ہے۔ ایرانی انجینئروں نے ہزاروں سال قبل دریافت کیا کہ پہاڑوں کے دامن میں موجود زیرِ زمین پانی کو بخارات میں تبدیل ہوئے بغیر دور دراز نشیبی علاقوں تک کیسے لایا جائے۔ قنات ایک طویل زیرِ زمین سرنگ ہوتی ہے جس کی ڈھلوان کششِ ثقل کے عین مطابق اتنی معمولی رکھی جاتی ہے کہ پانی زمین کے کٹاؤ کا سبب بنے بغیر بہتا رہے۔

یزد میں واقع 'قنات زارچ' اس فن کا معراج ہے۔ تقریباً 3000 سال پرانی یہ قنات 80 کلومیٹر سے زیادہ لمبی ہے اور اس کے راستے میں 2000 سے زائد عمودی شافٹ (کنوئیں) کھودے گئے ہیں جن کے ذریعے ہوا کا دباؤ قائم رکھا جاتا ہے اور مٹی کی صفائی کی جاتی ہے۔ یہ پانی شہر کے مختلف حصوں میں 'پایاب' کے ذریعے زمین کی سطح پر لایا جاتا تھا جہاں شہری اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کرتے تھے، جبکہ تقسیمِ آب کا انتظام 'میراب' (آبی ناظم) کی سخت ترین نگرانی میں عدل و انصاف کے قدیم اصولوں کے تحت کیا جاتا تھا۔

یزد کے اہم تاریخی آبی و تعمیراتی عناصر کا تقابلی جائزہ
عنصر کا نامتعمیراتی موادبنیادی سائنسی و تکنیکی مقصداوسط تاریخی قدامت
قنات زارچپتھر، مٹی کی سرنگ اور کنوئیںپہاڑوں سے زیرِ زمین پانی کی ترسیل بلاتبخیر3000 سال (ہخامنشی/اشکانی دور)
آب انبار رستم گیوخشت، ساروج اور اینٹیںپینے کے پانی کا طویل مدتی زیرِ زمین ذخیرہایلخانی تا قاجار دور
بادگیر باغ دولت آبادلکڑی، خشت اور چونے کا گچہوا کے بہاؤ سے عمارتوں کی قدرتی ٹھنڈکافشاری و زند دور (18ویں صدی)
ساباط (چھت دار گلیاں)کچی اینٹ (خشت) اور مٹی کا گاراسایہ دار راستے اور دیواروں کا ساختی استحکامسلجوقی تا صفوی دور
پایاب و سردابپتھر کی سیڑھیاں اور چوناپانی تک رسائی اور تپش سے محفوظ پناہ گاہساسانی و اسلامی دور

بادگیر اور آب انبار: قدرتی توانائی اور تبخیری ٹھنڈک

یزد کو دنیا بھر میں 'شہرِ بادگیرہا' (ونڈ کیچرز کا شہر) کہا جاتا ہے۔ بادگیر خالصتاً ایک غیر فعال ایئر کنڈیشنگ نظام ہے جو مٹی، اینٹ اور لکڑی کی مدد سے عمارت کے سب سے بلند حصے پر تعمیر کیا جاتا ہے۔ بادگیر کی ساخت یک رخی، دو رخی، چار رخی یا آٹھ رخی ہو سکتی ہے، جو صحرا سے آنے والی تیز ٹھنڈی ہوا کو پکڑ کر عمارت کے نچلے حصوں یا تہہ خانوں (سرداب) میں موجود حوض خانے کی طرف دھکیلتی ہے۔ جب خشک ہوا پانی کی سطح کے اوپر سے گزرتی ہے تو اس میں نمی شامل ہو جاتی ہے اور درجہ حرارت فوری طور پر 10 سے 15 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔

یزد کے باغِ دولت آباد کا بادگیر 33.8 میٹر کی بلندی کے ساتھ دنیا کا سب سے اونچا خشتی بادگیر ہے۔ اس کی ہشت پہلو ساخت ہر سمت سے چلنے والی ہلکی سی ہوا کو بھی گرفت میں لے کر نیچے بہتے فواروں پر نچھاور کرتی ہے۔ اس تکنیک نے بغیر کسی ایندھن، کوئلے یا بجلی کے صحرائی باشندوں کو موسم گرما کی جان لیوا گرمی سے نجات دلائی۔

بادگیر کے ساتھ ساتھ 'آب انبار' صحرائی بقا کا دوسرا اہم ترین ستون تھا۔ آب انبار دراصل مٹی کے نیچے گہرا تالاب ہوتا ہے جس کے اوپر ایک مضبوط گنبد بنایا جاتا ہے۔ اس کی دیواروں پر 'ساروج' نامی روایتی واٹر پروف گارے کا لیپ کیا جاتا تھا، جو چونے، راکھ، ریت، انڈے کی سفیدی اور اونٹ کے بالوں کا مرکب ہوتا تھا اور پانی کے دباؤ کے ساتھ مزید سخت ہو جاتا تھا۔ آب انبار کے گنبد کے گرد عام طور پر دو سے چھ بادگیر تعمیر کیے جاتے تھے تاکہ تالاب کی ہوا میں مسلسل گردش رہے اور پانی سڑے بغیر سال بھر برف کی مانند ٹھنڈا اور شفاف رہے۔

خشتی شہری ساخت اور ساباط کی سماجی و ماحولیاتی اہمیت

یزد کا شہری منصوبہ کسی بھی جدید ماحولیاتی بستی سے زیادہ مربوط اور سائنسی بنیادوں پر استوار ہے۔ شہر کی تنگ اور پرپیچ گلیاں تصادفی طور پر نہیں بنائی گئیں بلکہ ان کی سمت بندی تیز صحرائی طوفانوں کی شدت کو توڑنے اور عمارتوں کے باہمی سائے کو زیادہ سے زیادہ وقت تک برقرار رکھنے کے لیے کی گئی تھی۔ ان گلیوں میں سب سے دلچسپ عنصر 'ساباط' یعنی چھت دار محرابی گلیاں ہیں۔

ساباط محض دھوپ سے بچنے کا سایہ دار راستہ نہیں تھے، بلکہ ساختی انجینئرنگ کا کمال تھے۔ صحرائی ریت پر تعمیر ہونے کی وجہ سے گھروں کی اونچی دیواروں کو دونوں طرف سے گرنے کا خطرہ رہتا تھا۔ ساباط کی محرابیں گلی کے دونوں اطراف کے مکانات کو آپس میں ایک زنجیر کی طرح جوڑ کر بیرونی دباؤ اور زلزلے کے جھٹکوں کو جذب کر لیتی تھیں۔ مزید برآں، گلیوں میں یہ چھتیں ہوا کے دباؤ کا ایک سرنگ جیسا راستہ بنا دیتی تھیں جس سے نیچے چلنے والی ہوا میں قدرتی ٹھنڈک پیدا ہوتی تھی۔

یزد کے تاریخی بادگیروں کی اوسط اونچائی مختلف ادوار میں(میٹر)
سلجوقی دور12ایلخانی دور16تیموری دور19صفوی دور24قاجار دور (دولت آباد)34

مذہبی ہم آہنگی: آتش بہرام اور مسجد جامع کا سنگم

یزد کی مٹی نے صرف آبی انجینئرنگ کو ہی جنم نہیں دیا بلکہ یہ ایران کے قدیم ترین مذہبی اور فکری تنوع کا گہوارہ بھی ہے۔ اسلام کی آمد کے بعد جب پورے ایران میں زرتشتی آبادی سمٹنے لگی تو یزد کے لق و دق صحراؤں نے انہیں ایک محفوظ پناہ گاہ فراہم کی۔ یزد کا 'آتش بہرام' زرتشتی مت کا مقدس ترین معبد ہے جہاں 470 عیسوی سے روشن آگ آج تک بغیر بجھے مسلسل دہک رہی ہے۔ اس آگ کو مختلف ادوار کے بحرانوں میں ایک غار سے دوسرے مقام پر منتقل کیا جاتا رہا تاآنکہ اسے موجودہ عمارت میں مستقل طور پر سجا دیا گیا۔

دوسری طرف، یزد کی 'مسجدِ جامع' اسلامی فنِ تعمیر اور کاشی کاری (ٹائل ورک) کا شاہکار ہے۔ چودھویں صدی عیسوی میں تعمیر ہونے والی اس مسجد کے 52 میٹر بلند مینار ایران کے سب سے اونچے میناروں میں شمار ہوتے ہیں۔ مسجد کا فیروزی گنبد اور شاندار پیش طاق صحرا کے ہلکے بھورے رنگ کے درمیان ایک نخلستان کا تاثر دیتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مسجد کے تہہ خانے سے بھی قنات زارچ کا شفاف پانی گزرتا ہے، جس سے اس دور میں وضو اور پیاس بجھانے کے ساتھ ساتھ نمازیوں کے لیے قدرتی ایئر کنڈیشنڈ ماحول فراہم کیا جاتا تھا۔

  1. ہخامنشی سلطنت کے زیرِ سایہ یزد کے خطے میں پہاڑوں کے دامن سے پانی لانے کے لیے کاریز کا نظام شروع ہوا۔

برجِ خاموشاں (دخمہ) اور صحرائی جنائزی رسومات

یزد کے جنوبی مضافات میں دو بنجر پہاڑیوں کی چوٹیوں پر گول خشتی برج واقع ہیں جنہیں 'برجِ خاموشاں' یا 'دخمہ' کہا جاتا ہے۔ زرتشتی عقائد کے مطابق چاروں قدرتی عناصر—زمین، آگ، پانی اور ہوا—انتہائی مقدس ہیں اور انسانی لاش (جو کہ نجاست کا شکار ہو جاتی ہے) کو نہ تو زمین میں دفنایا جا سکتا تھا اور نہ ہی آگ میں جلایا جا سکتا تھا تاکہ یہ عناصر آلودہ نہ ہوں۔ اس لیے مردوں کو ان بلندیوں پر بنے برجوں میں لایا جاتا تھا جہاں سورج کی شعاعیں اور شکاری پرندے گوشت کو صاف کر دیتے تھے اور بعد ازاں خشک ہڈیوں کو ایک مرکزی گڑھے (استودان) میں ڈال کر تیزاب یا چونے سے تحلیل کر دیا جاتا تھا۔

اگرچہ بیسویں صدی کے وسط میں صفائی اور شہری قوانین کی وجہ سے اس طریقے کو ترک کر کے تابوت کے ذریعے باقاعدہ قبرستانوں میں تدفین شروع کر دی گئی، لیکن یہ دخمے آج بھی اس قدیم ماحولیاتی اور مذہبی فلسفے کا خاموش گواہ ہیں جو یزد کی صحرائی فضا میں ہزاروں سال تک رائج رہا۔

80 کلومیٹر لمبی کاریز

قنات زارچ دنیا کی سب سے طویل فعال زیرِ زمین آبی سرنگ ہے جو بغیر کسی مشینی پمپ کے صرف قدرتی ڈھلوان پر پانی یزد تک پہنچاتی ہے۔

دنیا کا بلند ترین بادگیر

باغ دولت آباد یزد میں نصب بادگیر 33.8 میٹر اونچائی رکھتا ہے اور خالصتاً مٹی، اینٹ اور لکڑی کے فریموں سے تیار کیا گیا ہے۔

خشت و گل کا دارالحکومت

یزد کا قدیم شہری رقبہ تقریباً 700 ہیکٹر پر محیط ہے جو دنیا میں مسلسل آباد مٹی کا سب سے بڑا محفوظ تاریخی مرکز ہے۔

1500 سالہ قدیم دہکتی آگ

یزد کے زرتشتی معبد آتش بہرام کی آگ گزشتہ ڈیڑھ ہزار برس سے مسلسل جلائی جا رہی ہے اور کبھی بجھنے نہیں دی گئی۔

معاصر دور میں یزد کے اسباق: ماحولیاتی بحران اور جدیدیت

اکیسویں صدی میں جب دنیا گلوبل وارمنگ، بے تحاشا بجلی کے استعمال سے چلنے والے ائیر کنڈیشنرز کے ماحولیاتی بوجھ اور زیرِ زمین میٹھے پانی کے ذخائر کی شدید کمی کے المیے سے دوچار ہے، یزد کا روایتی ماڈل عالمی ماہرینِ تعمیرات کے لیے ایک انقلاب آفریں کیس اسٹڈی بن چکا ہے۔ جدید سائنسی تحقیق ثابت کرتی ہے کہ یزد کے بادگیر، مٹی کی موٹی دیواریں اور صحن دار گھر (Courtyard Houses) کسی بھی قسم کی کاربن کے اخراج کے بغیر عمارتوں کے اندر کا درجہ حرارت انسان دوست حدود میں رکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

تاہم، جدید طرز زندگی، بے ہنگم کنکریٹ کی تعمیرات اور گہرے ٹیوب ویلوں کے بے دریغ استعمال نے یزد کے زیرِ زمین آبی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ پانی کی سطح گرنے سے کئی قدیم قناتیں خشک ہو چکی ہیں۔ اس کے باوجود ایرانی ادارے اور بین الاقوامی تنظیمیں مل کر زارچ قنات اور روایتی آب انباروں کی بحالی پر کام کر رہی ہیں تاکہ اس ماحولیاتی عجوبے کو نہ صرف سیاحت بلکہ آئندہ نسلوں کی ماحولیاتی بقا کے لیے بھی زندہ رکھا جا سکے۔ یزد محض ایک گزرا ہوا ماضی نہیں بلکہ صحرائی سیارے پر انسان کے پائیدار مستقبل کا ایک درخشاں خاکہ ہے۔

References

Frequently asked questions

یزد کو خشت اور مٹی کا شہر کیوں کہا جاتا ہے؟

یزد کو خشتی شہر اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا سارا روایتی شہری ڈھانچہ، گلیاں، مساجد، آب انبار اور رہائشی مکانات سورج کی دھوپ میں خشک کی گئی کچی اینٹوں (خشت) اور مٹی و بھوسے کے گارے سے تعمیر کیے گئے ہیں۔ یہ مواد صحرائی گرمی کی ترسیل کو روکتا ہے اور اندرونی فضا کو گرمیوں میں ٹھنڈا اور سردیوں میں معتدل رکھتا ہے۔

قنات یا کاریز کس طرح کام کرتی ہے؟

قنات دراصل پہاڑوں کے دامن سے نکلنے والے زیرِ زمین پانی کو قدرتی کششِ ثقل (Gravity) کے ذریعے ہموار ڈھلوان والی سرنگوں کے ذریعے میلوں دور بستیوں تک لانے کا نظام ہے۔ اس میں عمودی شافٹ (کنوئیں) کھودے جاتے ہیں جو وینٹی لیشن، مٹی نکالنے اور دیکھ بھال کا کام دیتے ہیں، جس سے پانی بخارات بنے بغیر انتہائی طویل فاصلہ طے کرتا ہے۔

بادگیر کی ساخت اور ٹھنڈک فراہم کرنے کا سائنسی طریقہ کیا ہے؟

بادگیر چھت پر نصب ایک بلند مینار ہوتا ہے جس کے منہ صحرائی ہواؤں کی سمت کھلے ہوتے ہیں۔ یہ مینار ٹھنڈی اور بلندی کی تیز ہوا کو کھینچ کر اندرونی کمروں یا حوض خانے میں بھیجتا ہے، جہاں پانی کی سطح سے ٹکرا کر ہوا میں تبخیری ٹھنڈک پیدا ہوتی ہے، جبکہ مکان کی گرم ہوا مخالف دریچوں سے خارج ہو جاتی ہے۔

آب انبار کیا ہے اور یہ پانی کو کیسے محفوظ رکھتا تھا؟

آب انبار ایک روایتی زیرِ زمین تالاب یا ذخیرہ آب ہے جو گنبد نما چھت اور موٹی خشتی دیواروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ دیواروں پر ساروج (ایک قسم کا واٹر پروف روایتی مسالا) لیپا جاتا ہے۔ اس کے گرد بادگیر نصب ہوتے ہیں جو ہوا کی گردش سے پانی کو ساکت ہونے، بدبودار ہونے اور گرم ہونے سے بچاتے ہیں۔

یزد کا زرتشتی ورثہ کس لحاظ سے منفرد ہے؟

یزد میں ساسانی دور کی زرتشتی روایات آج بھی زندہ ہیں۔ یہاں کا آتش بہرام وہ معبد ہے جس کی آگ 470 عیسوی سے مسلسل دہک رہی ہے، جبکہ شہر کے مضافات میں واقع 'برج خاموشاں' (Dakhma) اور چک چک کا مقدس پہاڑی استھان زرتشتی مذہبی رسومات اور تاریخ کا اہم ترین تاریخی و ثقافتی مرکز ہیں۔

کیا یزد کا قدیم طرزِ تعمیر جدید موسمیاتی تبدیلیوں میں مددگار ہو سکتا ہے؟

جی ہاں، جدید معمار یزد کے غیر فعال ماحولیاتی ڈیزائن (Passive Solar Design)، قدرتی ہوا کی گردش (بادگیر) اور پائیدار قدرتی مٹی کے استعمال کو گلوبل وارمنگ اور شدید گرمی کے ادوار میں توانائی کی بچت کے بہترین تاریخی ماڈل کے طور پر تسلیم کر رہے ہیں۔