Skip to main content

کاخ گلستان اور قاجار تہران: فن تعمیر، تاریخ اور شاہی اقتدار کا مظہر

تہران کے دار الحکومت بننے اور روایتی فارسی فن تعمیر و مغربی اثرات کے امتزاج کا تحقیقی جائزہ

یہ مقالہ قاجار دور میں تہران کے ایک صوبائی قصبے سے شاہی دار الحکومت بننے کے سفر اور کاخ گلستان (گلستان پیلس) کے شاندار تعمیراتی ارتقا کا احاطہ کرتا ہے۔ مقالے میں محل کے مختلف ایوانوں، روایتی آئینہ کاری، کاشی کاری، اور انیسویں صدی کے دوران ایرانی اور یورپی فن تعمیر کے منفرد ملاپ کا جامع تاریخی و فنی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

Key takeaways

  • آغا محمد خان قاجار نے 1786ء میں تہران کو قاجار سلطنت کا دار الخکومت منتخب کیا جس نے کاخ گلستان کو اقتدار کا مرکزی محور بنا دیا۔
  • کاخ گلستان کا سب سے قدیم موجودہ حصہ ایوانِ تختِ مرمر ہے، جو زرد یزد ماربل سے تراشا گیا اور فتح علی شاہ کے دور میں مکمل ہوا۔
  • شمس العمارہ (1867ء) اپنے وقت کی تہران کی بلند ترین عمارت تھی، جس میں روایتی بادگیر، گنبد اور یورپی گھڑیال و لوہے کے ستون یکجا کیے گئے۔
  • ناصر الدین شاہ کے دورِ حکومت (1848–1896) میں فرانسیسی اور برطانوی محلات سے متاثر ہو کر تالار آئینہ اور کاخ ابیض تعمیر کیے گئے۔
  • 1906ء میں ایران کے تاریخی مشروطہ (آئینی) فرمان پر مظفر الدین شاہ قاجار نے اسی کاخ گلستان میں دستخط کیے۔
  • 2013ء میں یونیسکو نے کاخ گلستان کو انسانی فن کی بے مثال تخلیق اور مشرق و مغرب کے تعمیراتی تبادلے کی علامت کے طور پر عالمی ثقافتی ورثہ تسلیم کیا۔
A wide-angle photographic view of the Golestan Palace facade and reflecting pool in Tehran, showcasing intricate nineteenth-century Qajar ceramic tiles, stained glass windows, and lush landscaped Persian gardens.
Frédéric Gadmer · Public domain · Wikimedia Commons

کاخ گلستان (گلستان پیلس) تہران کے قلب میں واقع قاجار دور کا ایک تاریخی، تہذیبی اور فنکارانہ شاہکار ہے جو ایرانی فن تعمیر کے روایتی حسن اور انیسویں صدی کے مغربی اثرات کے باہمی امتزاج کا سب سے واضح ثبوت ہے۔ جب قاجار خاندان کے بانی آغا محمد خان نے 1786ء میں تہران کو ایران کا نیا دار الحکومت مقرر کیا، تو تاریخی ارگِ تہران (شاہی قلعہ) کے احاطے میں واقع یہ رہائش گاہ قاجار سلطنت کے انتظامی، ثقافتی اور علامتی اقتدار کا مرکز بن گئی۔ اس کمپلیکس نے نہ صرف قاجار سلاطین کے جاہ و جلال، جشنِ نوروز کے شاہی درباروں اور سفارتی تقریبات کی میزبانی کی، بلکہ جدید دور میں ایران کے پہلے آئینی انقلاب (انقلاب مشروطہ 1906ء) کا گہوارہ بھی ثابت ہوا۔

کاخ گلستان کی سب سے بڑی انفرادیت اس کا نامیاتی تعمیراتی ارتقا ہے۔ یہ محض ایک واحد محل نہیں بلکہ متعدد محلات، تالاروں، ایوانوں، عجائب گھروں اور باغات کا ایک پیچیدہ اور متوازن مجموعہ ہے جو دو صدیوں پر محیط ایرانی تعمیراتی تاریخ کا احاطہ کرتا ہے۔ یہاں صفوی اور زند دور کے سادہ مگر مضبوط تعمیری عناصر سے لے کر ناصر الدین شاہ کے دور کے انتہائی آراستہ، آئینہ پوش اور یورپی کلاسیکی محرابوں سے مزین ایوان موجود ہیں۔ ایران کی روایتی دستکاریوں مثلاً کاشی کاریِ ہفت رنگ، گچ بری (پلستر کے کام)، آئینہ کاری، اور چوبی نقش و نگار کو جب فرانسیسی، روسی اور برطانوی انجینئرنگ اور آرائشی عناصر کے ساتھ مربوط کیا گیا تو اس سے وہ مخصوص انداز پیدا ہوا جسے آج مورخین 'قاجار آرکیٹیکچرل اسکول' کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

تہران کا ارتقا: ایک دیہی قلعے سے شاہی دار الحکومت تک

تہران کی تاریخی کایا پلٹ کا باقاعدہ آغاز قاجار سلطنت کے قیام سے جڑا ہوا ہے۔ قرونِ وسطیٰ میں تہران درحقیقت تاریخی شہر رے (Rhages) کے مضافات میں واقع ایک چھوٹا، نیم صحرائی مگر سرسبز قصبہ تھا، جو اپنے زیر زمین باغات، انار کے درختوں اور قدرتی چشموں کی بدولت مسافروں میں معروف تھا۔ دسویں صدی ہجری (سولہویں صدی عیسوی) میں صفوی فرمانروا شاہ طہماسپ اول نے اس قصبے کے ارد گرد ایک فصیل اور 114 برج بنوائے، جس سے تہران کے 'ارگ' (شاہی قلعے) کی بنیاد پڑی۔ بعد ازاں افشاری اور زندی ادوار میں بھی تہران ایک اہم عسکری و اسٹریٹجک چوکی رہا، لیکن اسے کبھی ملکی سیاست میں مرکزی حیثیت حاصل نہ ہو سکی۔

سنہ 1786ء (1200ھ) میں استرآباد کے قاجار قبیلے کے سردار آغا محمد خان نے تہران کو قاجار سلطنت کا دار الخلافہ قرار دیا۔ اس فیصلے کے پیچھے عسکری، قبائلی اور جغرافیائی وجوہات کارفرما تھیں۔ تہران ایک طرف قاجاروں کے آبائی مسکن یعنی گورگان اور مازندران کے قریب تھا اور دوسری طرف قفقاز اور جنوبی روس کی سرحدوں پر رونما ہونے والی فوجی پیش رفتوں پر نظر رکھنے کے لیے موزوں ترین مقام پر واقع تھا، جبکہ سابق دار الحکومت اصفہان اور شیراز جنوبی جغرافیے کے باعث شمال کے خطرات سے قدرے دور تھے۔ تہران کے پائے تخت بنتے ہی ارگِ تہران کے اندر وسیع پیمانے پر شاہی رہائش گاہوں کی تعمیر شروع ہوئی، جس نے رفتہ رفتہ موجودہ کاخِ گلستان کی شکل اختیار کر لی۔

کاخ گلستان کے نمایاں تعمیراتی اجزا اور شاہکار عمارات

کاخ گلستان کا موجودہ احاطہ آٹھ بنیادی شاہی عمارات، کئی نمائش گاہوں اور ایک پرشکوہ ایرانی باغ پر مشتمل ہے۔ اس احاطے کا ہر حصہ اپنے بانی بادشاہ کے مزاج، بین الاقوامی تعلقات اور اس دور کے تعمیراتی میلانات کا آئینہ دار ہے۔ قاجار سلاطین نے نہ صرف خطے کے مایہ ناز ترین معماروں اور خطاطوں کو یہاں جمع کیا، بلکہ بیرونی ممالک سے لائے گئے تحائف اور ٹیکنالوجی کو بھی عمارات کا حصہ بنایا۔

ایوانِ تختِ مرمر: قدیم ایرانی روایات کا احیا

ایوانِ تختِ مرمر (Marble Throne Terrace) گلستان کمپلیکس کا سب سے قدیم اور باوقار حصہ ہے۔ یہ ایک کھلا ہوا ایوان ہے جو ہخامنشی دور کے اپادانا اور ساسانی دور کے طاقِ کسریٰ کی یاد دلاتا ہے۔ سنہ 1806ء میں فتح علی شاہ قاجار نے شیراز کے معروف کاریگر محمد ابراہیم اصفہانی کو حکم دیا کہ وہ صوبہ یزد کے مشہور زرد سنگ مرمر سے ایک تخت تراشے۔ اس تخت کی بنیاد پینسٹھ سنگین قطعات پر مشتمل ہے جس کے ستونوں اور تختوں پر قرآنی آیات، شاہی القابات اور اشعار کندہ ہیں۔ تخت کے نچلے حصے کو دیو قامت پروں والے فرشتوں (فرشتہ ہائے حامی)، شیروں اور انسانی مجسموں نے سہارا دے رکھا ہے، جو اساطیری ایرانی تصورِ بادشاہت کی عکاسی کرتے ہیں۔

The Marble Throne (Takht-e Marmar) in Golestan Palace, Tehran, carved from yellow Yazd marble supported by human figures and mythological creatures under a mirror-worked iwan, 1806.
ایوانِ تختِ مرمر: یزد کے شفاف زرد سنگ مرمر سے تراشا گیا شاہی تخت، جس پر قاجار بادشاہ نوروز کے دربار سجایا کرتے تھے۔Frédéric Gadmer · Public domain

شمس العمارہ: تہران کا تاریخی فلک بوس مینار

شمس العمارہ، جسے 'عمارتِ خورشید' بھی کہا جاتا ہے، بلاشبہ کاخِ گلستان کا سب سے چشم کشا تعمیراتی نمونہ ہے۔ ناصر الدین شاہ قاجار نے جب یورپی شہروں کے بلند و بالا ٹاورز دیکھے تو ان کی خواہش ہوئی کہ تہران کے مشرق میں ایک ایسی عمارت تعمیر کی جائے جس کی چھت سے وہ پورے شہر اور اس کے پس منظر میں ایستادہ کوہ البرز کا نظارہ کر سکیں۔ 1865ء میں دوست علی خان معیر الممالک کی نگرانی میں اس کی تعمیر شروع ہوئی اور دو برس بعد استاد علی محمد کاشی کے ہاتھوں مکمل ہوئی۔ پانچ منزلہ یہ عمارت اس وقت دار الحکومت کی سب سے بلند ترین عمارت تھی۔ عمارت کی آخری منزل پر برطانوی ملکہ وکٹوریہ کی جانب سے تحفتاً بھیجی گئی ایک بھاری کلاک نصب کی گئی، جس کی آواز اس دور کے پرسکون تہران میں میلوں دور تک سنائی دیتی تھی۔

تالارِ آئینہ اور نگار خانہ: مغربی نفاست اور مشرق کا انعکاس

تالارِ آئینہ (Hall of Mirrors) کاخِ گلستان کا وہ ہال ہے جس نے بین الاقوامی سطح پر بے پناہ شہرت حاصل کی۔ ناصر الدین شاہ نے یورپ کے محلات بالخصوص ورسائی (Versailles) کے ہال آف مررز سے متاثر ہو کر معمار صنیع الملک کو اس کی تعمیر سونپی۔ اس ہال کی دیواروں اور چھتوں کو لاکھوں چھوٹے چھوٹے تراشیدہ شیشوں کے ٹکڑوں (آئینہ کاری) سے سجایا گیا ہے جو کرسٹل فانوسوں کی روشنی کو ہزاروں جہتوں میں منعکس کرتے ہیں۔ اس تالار کی شہرت میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب نامور ایرانی مصور محمد غفاری (کمال الملک) نے دس برس کی محنت شاقہ کے بعد اس ہال کا ایک عالمی شاہکار آئل پینٹنگ پورٹریٹ تیار کیا جس میں ناصر الدین شاہ کو کھڑکی کے سامنے بیٹھے دکھایا گیا ہے۔

کاخ گلستان کی اہم عمارات کا تقابلی و تاریخی جدول
عمارت کا نامسنِ تکمیل / دورسرپرست بادشاہبنیادی تعمیری و فنکارانہ خصوصیاتتاریخی یا انتظامی استعمال
ایوانِ تختِ مرمر1806ءفتح علی شاہ قاجاریزد ماربل، مکرنس، آئینہ کاری، سنگی مجسمےرسمِ تاج پوشی، جشنِ نوروز، سلامِ عام
شمس العمارہ1867ءناصر الدین شاہ قاجارپانچ منزلہ ڈھانچہ، لوہے کے کالم، دوہرے مینار، کلاک ٹاورتہران کا شاہی نظارہ گاہ، خصوصی استقبالیہ
تالارِ آئینہ1882ءناصر الدین شاہ قاجارنازک ہندسی آئینہ کاری، لکڑی کے فریم، یورپی طرز کی کھڑکیاںغیر ملکی سفیروں کی اسناد کی وصولی، ریاستی عشائیے
عمارتِ بادگیر1813ء (مرمت 1866ء)فتح علی شاہ / ناصر الدین شاہچار شاندار کاشی دار بادگیر، حوض خانہ، ٹھنڈی ہواداریموسمِ گرما کی شاہی رہائش، حوض خانے کی نشستیں
کاخِ ابیض (سفید محل)1892ءناصر الدین شاہ قاجارعثمانی نوکلاسیکی طرز، خالص سفید بیرونی پینل، سنگ مرمر کی سیڑھیاںسلطان عبدالحمید کے تحائف کی نمائش، موجودہ اینتھروپولوجی میوزیم
خلوتِ کریم خانی1759ءکریم خان زند / آغا محمد خانسرپوشیدہ چھت دار ایوان، روایتی ماربل کا حوض اور فوارہشاہی خلوت گاہ، ناصر الدین شاہ کا مزار (سابقہ)

فن تعمیر میں ہم آہنگی: روایتی اسلوب اور جدید مادی عناصر

قاجار دور کا فن تعمیر محض روایات کی اندھی تقلید نہیں تھا اور نہ ہی یہ مغربی عناصر کا غیر متوازن چربہ تھا۔ یہ دراصل ایک ایسا دور تھا جس میں ایرانی معمار نے اپنی صدیوں پرانی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے صنعتی انقلاب کی نئی مادی دریافتوں کو گلے لگایا۔ شمس العمارہ کی تعمیر میں چلمنوں اور مٹی کی روایتی اینٹوں کے ہمراہ کاسٹ آئرن (ڈھلواں لوہے) کے ستونوں اور شہتیروں کا استعمال ایران میں صنعتی مواد کے داخلے کا نقطہ آغاز تھا۔ معماروں نے دیکھا کہ روایتی گنبد اور قوس دار محرابیں عمارت کے بوجھ کی ایک خاص حد تک متحمل ہو سکتی ہیں، لہٰذا انھوں نے یورپی کالموں اور بیمز کے ذریعے اندرونی ہالوں کو وسیع تر کیا۔

اس امتزاج کا دوسرا حیران کن پہلو کاشی کاری (ٹائل ورک) میں نمودار ہوا۔ روایتی اسلامی ادوار کے فیروزی، نیلے اور لاجوردی رنگوں کے برعکس، قاجاری کاشی کاری میں چمکدار پیلے، گلابی اور نارنجی رنگوں کا کثرت سے استعمال شروع ہوا جسے 'کاشی ہفت رنگ' کہا جاتا ہے۔ گلستان محل کی دیواروں پر نصب ٹائلوں پر قرآنی و صوفیانہ نقوش کے شانہ بشانہ شاہنامہ کے ہیرو رستم و سہراب، شکار گاہوں کے مناظر، اور دلچسپ بات یہ کہ وکٹورین لباس زیب تن کیے ہوئے یورپی خواتین و مرد حضرات کی شبیہیں بھی کندہ کی گئیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دور کا ایرانی سماج اور شاہی دربار بیرونی دنیا کے ساتھ کس قدر فعال اور تجسس آمیز مکالمے میں مصروف تھا۔

  1. آغا محمد خان قاجار نے تہران کو اپنا دار الحکومت قرار دیا اور ارگ کے اندر شاہی عمارات کی توسیع کی بنیاد رکھی۔

عمارتِ بادگیر: روایتی سائنسی اور ماحولیاتی شعور

کاخِ گلستان میں واقع 'عمارتِ بادگیر' قاجار معماروں کی روایتی موسمیاتی بصیرت کا اعجاز ہے۔ تہران کے گرم اور خشک گرمائی موسم سے نمٹنے کے لیے اس عمارت کے چاروں کونوں پر چار بلند بادگیر (Windcatchers) تعمیر کیے گئے، جنہیں نیلے اور زرد ٹائلوں سے مزین کیا گیا۔ یہ بادگیر تازہ اور ٹھنڈی ہوا کو پکڑ کر عمارت کے تہہ خانے میں موجود ایک بڑے تالاب (حوض خانہ) کی سطح پر بھیجتے تھے، جہاں سے یہ ہوا پانی کے بخارات کے ملاپ سے خنک ہو کر اوپر کے شاہی کمروں میں پھیل جاتی تھی۔ یہ نظام بغیر کسی میکانیکی توانائی کے محل کے اندرونی درجہ حرارت کو باہر کی نسبت 10 سے 15 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم رکھتا تھا۔ ناصر الدین شاہ اپنے موسم گرما کے دربار اور استراحت کے اوقات اسی حوض خانے میں گزارا کرتے تھے۔

قاجار سلاطین کا تعمیراتی موازنہ

قاجار سلاطین کے طویل ادوارِ حکومت نے تہران کے شہری اور تعمیراتی منظر نامے پر گہرے نقوش چھوڑے۔ آغا محمد خان کی درویشانہ اور سپاہیانہ زندگی کے بعد، فتح علی شاہ نے محل کو شکوہ، فارسی روایات اور سنگی نقوش سے نوازا۔ اس کے برعکس ناصر الدین شاہ کی نصف صدی پر محیط حکومت نے محل کو ایک جدید کاسموپولیٹن ثقافتی مرکز بنا دیا، جہاں ریل گاڑی، ٹیلی گراف، فوٹوگرافی اور مغربی طرز کے فیشن کو جگہ ملی۔ درج ذیل چارٹ قاجار خاندان کے ان اہم سلاطین کے ادوار حکومت کا موازنہ پیش کرتا ہے جن کے دور میں تہران اور کاخ گلستان کے بنیادی خدوخال تشکیل پائے۔

اہم قاجار سلاطین کے ادوارِ حکومت (برسوں میں)(برس)
آغا محمد خان11فتح علی شاہ37محمد شاہ14ناصر الدین شاہ48مظفر الدین شاہ11احمد شاہ قاجار16

سیاسی تبدیلیاں، مشروطہ تحریک اور قاجاری تہران کا زوال

کاخ گلستان محض شاہی تفریح گاہ یا فن پاروں کا گودام نہیں تھا، بلکہ یہ ایران کی جدید سیاسی تاریخ کے ہنگامہ خیز ترین فیصلوں کا مرکز بھی رہا۔ انیسویں صدی کے اواخر میں کاخ گلستان کے متصل دار الفنون (ایران کی پہلی جدید یونیورسٹی) کے قیام نے تہران میں ایک نئے روشن خیال طبقے کو جنم دیا جس نے استبدادی نظام پر سوالات اٹھائے۔ جب ملک میں آئینی اصلاحات کے حق میں ملک گیر مظاہرے شروع ہوئے، تو کاخ گلستان عوامی مطالبات اور شاہی مزاحمت کے تصادم کا گڑھ بن گیا۔ بالآخر شدید علالت کے عالم میں مظفر الدین شاہ قاجار نے اگست 1906ء میں اسی محل کے ایک کمرے میں تاریخی فرمانِ مشروطیت پر دستخط کیے، جس سے ایران میں مشروطہ پارلیمان (مجلس شوریٰ ملی) کی بنیاد رکھی گئی۔

پہلوی دورِ حکومت (1925–1979) کے آغاز کے ساتھ ہی تہران کے شہری ڈھانچے میں تیز رفتار جدیدیت آئی۔ اگرچہ رضا شاہ پہلوی اور بعد ازاں محمد رضا شاہ پہلوی نے اپنی باقاعدہ تاج پوشی کی شاندار تقریبات کاخ گلستان کے ایوان تخت مرمر اور تالارِ سلام ہی میں منعقد کیں، لیکن تہران کے پرانے ارگ کی بیرونی فصیلوں اور قاجاری دروازوں (جیسے دروازہ دولت اور دروازہ شمیران) کو وسیع سڑکوں اور جدید وزارتوں کی تعمیر کے لیے مسمار کر دیا گیا۔ خوش قسمتی سے کاخِ گلستان کا مرکزی احاطہ اس بلڈوزنگ مہم سے محفوظ رہا اور اسے بتدریج عجائب گھروں میں تبدیل کر کے عوام کے لیے کھول دیا گیا۔

“جب تم گلستان محل کے تالار آئینہ میں داخل ہوتے ہو تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے تم کسی طلسماتی برف پوش غار میں پہنچ گئے ہو، جہاں ہر حرکت اور ہر شمع لاکھوں روشن ستاروں کی صورت منعکس ہوتی ہے۔ یہ مشرق کا وہ نایاب خواب ہے جو مغربی آنکھ کو خیرہ کر دیتا ہے۔”
— جارج کرزن (لارڈ کرزن)، اپنی کتاب 'Persia and the Persian Question' (1892ء) میں
شمس العمارہ کی گھڑی کا تاریخی تحفہ

شمس العمارہ کے مینار پر لگی گھڑی برطانوی ملکہ وکٹوریہ کی جانب سے ناصر الدین شاہ کو تحفے میں دی گئی تھی، جو تہران کی پہلی عوامی مکینیکل گھڑی تھی۔

65 سنگ مرمر کے بلاکس

ایوانِ تختِ مرمر کا شاہی تخت یزد کے شفاف ماربل کے 65 ٹکڑوں پر مشتمل ہے جس میں نہ تو کوئی لوہے کا کیل استعمال ہوا اور نہ ہی جدید گوند۔

کمال الملک کی لافانی پینٹنگ

مشہور ایرانی مصور کمال الملک نے کاخ گلستان کے تالار آئینہ کی آئل پینٹنگ بنانے کے لیے پورے دس سال مسلسل اس ہال میں بیٹھ کر کام کیا۔

یونیسکو کا 2013ء کا اعزاز

کاخ گلستان تہران شہر کی حدود میں واقع پہلی اور اب تک کی واحد یادگار ہے جسے یونیسکو نے باضابطہ طور پر عالمی ثقافتی ورثہ نامزد کیا ہے۔

نتیجہ: عالمی ثقافتی ورثہ اور قاجاری شناخت کا تحفظ

آج اکیسویں صدی کے شوریدہ سر اور بارہ ملین سے زائد آبادی والے میٹروپولیس تہران کے وسط میں کاخِ گلستان ایک پرسکون تاریخی جزیرے کی مانند قائم ہے۔ یہ صرف ایک مٹ چکی سلطنت کی پرشکوہ یادگار نہیں بلکہ ایرانی قوم کے اس عبوری دور کی زندہ دستاویز ہے جب وہ اپنی روایتی قرونِ وسطیٰ کی بنیادوں سے نکل کر جدید بین الاقوامی دنیا کے ساتھ دست و گریبان ہو رہی تھی۔ محل کی فیروزی اور گلابی ٹائلیں، پانی کے تالابوں میں جھلملاتے شمس العمارہ کے سائے اور تالارِ آئینہ کے سحر انگیز عکس زائرین کو یہ یاد دلاتے ہیں کہ کس طرح قاجار تہران نے اپنی فارسی روح کو کھوئے بغیر مغرب کی مادی ترقی کے چیلنج کا جواب اپنے منفرد تعمیری اسلوب میں دیا تھا۔

References

Frequently asked questions

کاخ گلستان کس دور میں تعمیر ہوا اور اس کا بانی کون تھا؟

کاخ گلستان کی ابتدائی بنیاد صفوی دور کے شاہ طہماسپ اول کے دور میں تہران کے تاریخی قلعے (ارگ) کے طور پر رکھی گئی تھی اور بعد ازاں زند دور میں کریم خان زند نے اس میں کچھ حصے شامل کیے۔ تاہم موجودہ گلستان محل کا اصل شاہی عروج 1786ء میں قاجار سلطنت کے بانی آغا محمد خان قاجار کے تہران کو دار الحکومت بنانے کے بعد شروع ہوا، اور بعد میں فتح علی شاہ اور ناصر الدین شاہ نے اسے ایک پرشکوہ کمپلیکس میں تبدیل کیا۔

شمس العمارہ کی تاریخی اور تعمیراتی اہمیت کیا ہے؟

شمس العمارہ (Sun Building) ناصر الدین شاہ کے حکم پر 1867ء میں دوست علی خان معیر الممالک اور معمار استاد علی محمد کاشی نے تعمیر کی۔ یہ تہران کی پہلی فلک بوس عمارت تھی جس میں پانچ منزلیں شامل تھیں۔ اس عمارت کا مقصد شاہ کو پورے تہران اور البرز کے پہاڑوں کا بلندی سے نظارہ فراہم کرنا تھا۔ یہ عمارت لوہے کے شہتیروں کے استعمال، روایتی کاشی کاری اور ملکہ وکٹوریہ کی طرف سے تحفے میں دی گئی کلاک ٹاور کے امتزاج کی شاہکار مثال ہے۔

قاجاری فن تعمیر میں یورپی اثرات کیسے نمایاں ہوئے؟

انیسویں صدی میں قاجار بادشاہوں، بالخصوص ناصر الدین شاہ کے یورپ کے تین باقاعدہ دوروں کے نتیجے میں ایرانی فن تعمیر میں زبردست ارتقا آیا۔ قاجار معماروں نے ایرانی روایتی عناصر جیسے حوض خانہ، شیشے کے کام، مکرنس اور محرابوں کو برقرار رکھتے ہوئے یورپی نوکلاسیکی کھڑکیاں، فرانسیسی پیلس کے طرز پر کشادہ ہال، سنگ مرمر کے یونانی ستون اور بیرونی چبوترے اپنائے۔ کاخ گلستان کا تالار آئینہ اور کاخ ابیض اس امتزاج کی روشن ترین تصویریں ہیں۔

تخت مرمر کیا ہے اور اس کی تاریخی اہمیت کیا ہے؟

تخت مرمر (سنگ مرمر کا تخت) ایک شاندار بیرونی ایوان ہے جو 1806ء میں فتح علی شاہ قاجار کے حکم پر اصفہان کے مشہور سنگ تراش محمد ابراہیم نے صوبہ یزد کے شفاف پیلے سنگ مرمر سے تراشا تھا۔ یہ تخت 65 سنگ مرمر کے ٹکڑوں پر مشتمل ہے، جسے فرشتوں، دیو قامت پہلوانوں اور شیروں کے مجسموں نے اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے۔ قاجار سلاطین اس ایوان میں عید نوروز کے سلام عام اور غیر ملکی سفیروں کے باقاعدہ استقبال کی تقریبات منعقد کرتے تھے۔

کاخ گلستان کو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں کب شامل کیا گیا؟

کاخ گلستان کو باضابطہ طور پر 23 جون 2013ء کو کمبوڈیا کے دار الحکومت پنوم پن میں منعقدہ یونیسکو کی 37 ویں سالانہ اجلاس کے دوران عالمی ثقافتی ورثے (UNESCO World Heritage Site) کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ یونیسکو کے مطابق یہ محل صفوی اور قاجار دور کے روایتی ہنر اور انیسویں صدی کے بین الاقوامی تعمیراتی و فنی میل جول کی غیر معمولی دستاویز ہے۔